ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / رانچی ماب لنچنگ کی گونج اقوام متحدہ میں بھی، ہیومن رائٹس کونسل نے حادثہ کی تفصیلات طلب کرلی  

رانچی ماب لنچنگ کی گونج اقوام متحدہ میں بھی، ہیومن رائٹس کونسل نے حادثہ کی تفصیلات طلب کرلی  

Tue, 09 Jul 2019 22:41:35    S.O. News Service

رانچی/نئی دہلی، 9 جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)  اقوام متحدہ میں سرائے کیلا موب لنچنگ معاملہ کی آہٹ پہنچ چکی ہے۔ 1 جولائی کو اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کونسل کے 41 ویں عام سیشن کے دوران این جی او سینٹر فار افریقہ ڈیولپمنٹ اینڈ پروگریس کے پال نیومین کمار نے اپنے خطاب میں بھارت میں موب لنچنگ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سرائے کیلا میں تبریز انصاری کے ساتھ وحشیانہ تشدد کا ذکر کیا۔واضح ہو کہ ہیومن رائٹس کونسل نے اس واقعہ کی تفصیلات مانگی ہے۔ اس خطاب کے ایک ہفتے بعد اب اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔اسدالدین اویسی سمیت کئی لیڈروں نے اسے ٹویٹ کیا ہے۔سرائے کیلا کے دھاتی کی ڈیہہ میں ہوئے موب لنچنگ اور اس بعد 5 جولائی کو رانچی کے ڈورنڈا اور اقرا مسجد کے پاس ہوئے تشددپر جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہوئی۔ موب لنچنگ  سے منسلک مفاد عامہ کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے پیر کو ہائیکورٹ نے حکومت اور رانچی پولیس سے دونوں صورتوں میں رپورٹ مانگی ہے۔ جسٹس ہائی کورٹ مشرا اور جسٹس دیپک روشن کے بنچ نے کہا کہ ماب  لنچنگ سنگین اور حساس معاملہ ہے، اسے کسی بھی صورت میں نرمی سے نہیں لیا جا سکتا ہے۔ بنچ نے ہدایت دی کہ حکومت موب لنچنگ اور اس کے بعد کی گئی کارروائی کی اطلاع کورٹ کو سونپے۔واضح ہو کہ سرائے کیلا واقعہ کے بعد پنکج یادو نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی دائر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جھارکھنڈ میں 18 مارچ 2016 سے اب تک ہوئے موب لنچنگ کے واقعات میں 18 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ رام گڑھ میں ہوئے واقعہ کے بعد سے اس طرح کے معاملات کو روکنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ موب لنچنگ کے واقعات کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہئے۔ درخواست گزار پنکج یادو نے ایک اور درخواست بھی پیر کو دائر کی۔ اس میں پانچ جولائی کو رانچی ڈورنڈا اور ا قرا  مسجد کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں واقعات کافی سنگین ہیں اور یہ پولیس انتظامیہ کی ناکامی کی مثال بھی ہے۔ 


Share: